بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا پانچ فیصد تجارت میں شریک پر قربانی واجب ہے؟

سوال

میں گزشتہ سات سال سےماموں کی دوکان پر تنخواہ پر کام کر رہا تھا،  لیکن گزشتہ دو سال سے ماموں نے مجھے دوکان کے منافع میں پانچواں حصے  کا شراکت دار بنا دیا ہے،  یعنی کہ دوکان کے مال پر تو میرا کوئی مالکانہ حق نہیں،  لیکن اس مال کے بکنے پر اس میں سے منافع میں حصہ دار ہوں تو کیا اس صورت میں مجھ پر قربانی واجب ہوتی ہے یا نہیں؟  نیز دوکان میں میری کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے۔ 

جواب

ہر وہ شخص جو ایامِ عید میں صاحبِ نصاب ہو ( یعنی اس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر نقدی یا کچھ سونا کچھ چاندی، یا کچھ سونا اور کچھ نقدی، یا کچھ چاندی اور کچھ نقدی، یا ضرورت سے زائد کوئی بھی سامان موجود ہو جس کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے مساوی یا زائد ہو ) اس پر قربانی واجب ہے، پس صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر آپ صاحبِ  نصاب ہوں تو اس صورت میں آپ پر قربانی واجب ہوگی۔

قربانی کے وجوب کی صورت میں اگر ایامِ عید میں قربانی نہیں کی  تو بعد میں ایک قربانی کی قیمت کے بقدر رقم صدقہ کرنا واجب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200300
تاریخ10-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں