بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آفس کی اشیاء مالک کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی استعمال میں لانے کا حکم

سوال

میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہوں،  میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں آفس کی چیزیں مثلاً اسٹیشنری، فوٹو کاپی مشین، اسکینر،کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو (دینی کتب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے) مالک کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی استعمال میں لاسکتا ہوں؟  اور اگر مالک کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاسکتا تو اب تک جو استعمال کر چکا ہوں،  اس کے لیے اللہ سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ کمپنی کے مالک سے معافی بھی مانگنی پڑے گی؟

جواب

آفس کی چیزیں جو آپ کو آفس کے کام کے لیے دی گئی ہیں ان اشیاء کو مالک کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی استعمال میں لانا آپ کے لیے جائز نہیں ہے، البتہ مالک اجازت دے دے تو پھر آپ ان اشیاء کو اپنے ذاتی استعمال میں بھی لاسکتے ہیں۔

اب تک جتنی مرتبہ آپ مالک کی اجازت کے بغیر آفس کی اشیاء اپنے ذاتی استعمال میں لاچکے ہیں وہ جائز نہیں تھا ، آپ پر لازم ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ مالک کو بھی ساری تفصیل بتاکر ان سے معذرت کریں، اور دنیا میں ان کا یہ حق معاف کرالیں،  یا اس کی ادائیگی کی کوئی صورت باہمی رضامندی سے طے کرلیں، ورنہ آخرت میں حساب دینا پڑے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200277
تاریخ10-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں