بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی میں شریک کا جانور ذبح کرنے کی اجرت لینا

سوال

ایک آدمی نے بڑے جانور میں قربانی کے لیے  حصہ ڈالا اور وہ آدمی جانور ذبح کرنا جانتا ہے، دوسرے حصہ داروں نے ذبح کا کام  اسی ایک شریک آدمی کے ذمہ لگایا تو کیا یہ شریک آدمی  باقی حصہ داروں سے ان کے حصہ کے بقدر ذبح کرنےکی اجرت لے سکتا ہے؟

جواب

قربانی کے جانور میں شریک آدمی کے لیے اسی جانور کے ذبح کرنے کی اجرت لینا جائز نہیں ہے۔فتاوی شامی میں ہے :

"( ولو ) استأجره ( لحمل طعام ) مشترك ( بينهما فلا أجر له )؛ لأنه لايعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه فلايستحق الأجر، ( كراهن استأجر الرهن من المرتهن )؛ فإنه لا أجر له لنفعه بملكه". (6/60) فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200274
تاریخ10-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں