بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

Facebook کے استعمال کا حکم

سوال

فیس بک کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی فیس بک پیج مدارس کے لیے دین کی دعوت کے طور پر استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

کوئی بھی ایسا کام جو آگے چل کر فتنہ وفساد کا ذریعہ بنے اس سے اجتناب کرناضروری ہے، خصوصاًجب کہ وہ فتنہ مذہبی رخ اختیارکرلےتو مزید احتیاط کی ضرورت ہے، نیزویڈیواورفوٹووغیرہ جس طرح خود بنانا اورکھینچنا حرام ہیں اسی طرح کسی اورکی بنائی ہوئی ویڈیو یا تصاویر شائع کرنا اور اس کو پھیلانا بھی شرعاً ممنوع ہے، مزید یہ کہ فیس بک پر ہر کس وناکس کو اظہارِخیال کی آزادی کا پلیٹ فارم فراہم کیا جاتا ہے جس میں باطل عقائد و نظریات والے لوگ کم زور اہلِ ایمان کے ایمان پر ڈاکا  ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منظم کام بھی کررہے ہیں، اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ایسے تالاب میں کود نے سے اجتناب کیا جائے جہاں خود کے ڈوبنےکاخدشہ ہو۔

ہاں اگرکوئی شخص اپنے ایمان اورعقائد میں اس قدر مضبوط ہو کہ وہ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائےخود دوسروں کے لیے  ہدایت و راہ نمائی کا ذریعہ بن سکتا ہو تو حدودِ شرع میں رہتے ہوئے اس پلیٹ فارم کواستعمال کرنے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

سوشل میڈیا کے پروگراموں کا استعمال کرنا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200269
تاریخ09-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں