کسی جانور میں پیدائشی نقص ہو تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
سوال
کسی جانور میں پیدائشی نقص ہو تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
جواب
نقص کی صراحت کرکے سوال کرتے تو بہتر تھا، کیوں کہ جانور میں پائے جانے والے مختلف عیوب کا اعتبار کرنے کے لیے شرعاً مقدار مقرر ہے۔ بہرحال اصولی بات یہ ہے کہ ہر وہ عیب جو غیر معمولی ہو اور جانور کی منفعت کو ختم کردے ، پیدائشی ہو یا قربانی سے پہلے پیدا ہوا ہو قربانی درست ہونے میں مانع ہے۔
الفتاوى الهندية - (42 / 294):
"وَمِنْ الْمَشَايِخِ مَنْ يَذْكُرُ لِهَذَا الْفَصْلِ أَصْلًا وَيَقُولُ : كُلُّ عَيْبٍ يُزِيلُ الْمَنْفَعَةَ عَلَى الْكَمَالِ أَوْ الْجَمَالِ عَلَى الْكَمَالِ يَمْنَعُ الْأُضْحِيَّةَ". فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

