بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے لیے قربانی کرنے والا بال ناخن کاٹے یا نہیں؟

سوال

میں اپنی ماں کے لیے قربانی کرتا ہوں،  کیا مجھے بال کٹانا چاہیے یا نہیں؟

جواب

اگر آپ والدہ  کے ایصالِ ثواب  کے لیے  قربانی کر رہے ہیں تو  آپ کے لیے  بال ، ناخن وغیرہ نہ کاٹنا مستحب ہے.

سنن النسائي (7/ 211):
"عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى هلال ذي الحجة، فأراد أن يضحي، فلايأخذ من شعره، ولا من أظفاره حتى يضحي»"۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3 / 1080):

"إذا دخل العشر) أي: أول عشر ذي الحجة. (وأراد) أي: قصد. (بعضكم أن يضحي) : سواء وجب عليه الأضحية، أو أراد التضحية على الجهة التطوعية، فلا دلالة فيه على الفرضية، ولا على السنية". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200225
تاریخ08-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں