بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ا اگر تو بہن کے گھر جائے گی تو میرے نکاح سے نکل جائے گی

سوال

زید نے بیوی سے کہا:  ’’اگر تو بہن کے گھر جائے گی تو میرے نکاح سے نکل جائے گی‘‘،  اس کا کیا حکم ہے‎؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر زید کی بیوی اپنی بہن کے گھر جائے گی تو اس پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اور تجدیدِ نکاح کے بغیر دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا اور اگر بہن کے گھر نہیں جائے گی تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 273):

"ويقع بأبرأتك عن الزوجية بلا نية". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200220
تاریخ08-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں