بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کے ایجاب و قبول کے متعلق

سوال

نکاح میں اگر ایک طرف بیوی سے قبول کر لیا جاۓ تو نکاح منعقد ہوگا ؟

جواب

واضح رہے کہ نکاح منعقد ہونے کے لیے ’’ایجاب‘‘  اور ’’قبول‘‘  ضروری ہے۔ ایجاب کہتے ہیں نکاح کی پیشکش کرنے کو اور قبول کہتے ہیں اس پیشکش کو تسلیم کرلینے کو۔

جب لڑکے  یا اس کے وکیل اور لڑکی یا اس کے وکیل کے درمیان (گواہوں کی موجودگی میں) ایجاب و قبول ہوتا ہے تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ اور اگر لڑکے یا لڑکی کی اجازت کے بغیر ہی کوئی اس کی طرف سے ایجاب یا قبول کرلے تو ایسا نکاح اس لڑکے یا لڑکی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے۔ اگر وہ اجازت دے دے تو وہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے اور اگر وہ رد کردے تو وہ نکاح منعقد نہیں ہوتا، بلکہ کالعدم ہوجاتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 9):

"(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200215
تاریخ08-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں