شوہر طلاق دے اور دوسری شادی کی اجازت دے
سوال
اگر شوہر مالی تنگی کا شکار ہو اور اس کی اجازت ہو تو طلاق کے بعد بیوی دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے؟
جواب
شوہر اگر مالی تنگی اور بیوی کا نفقہ نہ اٹھاسکنے کی وجہ سے بیوی کو طلاق دے تو بیوی کے لیے طلاق واقع ہونے کے بعد طلاق کی عدت (یعنی حاملہ ہو تو وضعِ حمل (بچہ کی پیدائش) اور حاملہ نہ ہو تو تین ماہواریاں) گزار کر دوسری جگہ شادی کرنے کی اجازت ہے۔ البتہ اگر نکاح کے وقت شوہر کی مالی حالت بہتر تھی اور اب صرف مالی تنگی کی وجہ سے بیوی طلاق چاہتی ہے تو شرعاً یہ مناسب نہیں ہے، نکاح کا رشتہ غمی اور خوشی دونوں حالات میں ساتھ نباہنے کا نام ہے، اور مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے؛ کیوں کہ مال آنے جانے والی چیز ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 50):
"إذا خافا أن لايقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا". فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

