بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے موقوفہ زمین کو فروخت کرنا

سوال

زید نے پرانی موجود مسجد کے قریب گاؤں میں دوسری زمین مسجد  کے لیے وقف کی ہے. اب صوتِ مسئولہ یہ ہے کہ جو زمین ہے وہ پہلے والی مسجد سے مل نہیں سکتی جب کہ دوسری مسجد کی گاؤں میں ضرورت بھی نہیں۔ لہٰذا واقف اس زمین کو فروخت کرکے دوسری جگہ مسجد یا مدرسہ کے لیے زمین خرید سکتا ہے یا نہیں؟ مختصر یہ کہ موقوفہ اراضی کی دوسری جگہ منتقلی کی گنجائش ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مذکورہ زمین مسجد بنانے کے لیے وقف کردی گئی؛ لہٰذا اس وقف زمین کو فروخت کرنا یا اس کاتبادلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200159
تاریخ07-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں