بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا گھر کے سربراہ کی پورے گھر طرف سے ایک قربانی کافی ہے ؟

سوال

کیا قربانی صرف گھر کے سربراہ کی طرف سے کافی ہوتی ہے اگر چہ دیگر صاحبِ  نصاب بھی ہوں، مثلاً بیوی ۔ مدلل جواب درکار ہے۔

جواب

ہر صاحبِ نصاب عاقل بالغ مسلمان کے ذمہ  قربانی کرنا واجب ہے، لہذا  گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہونے کی صورت میں تمام گھر والوں کی طرف سے گھر کے سربراہ کی  ایک قربانی کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر اپنی  اپنی قربانی کرنا واجب اور لازم ہے، گھر کے کسی ایک فرد کے قربانی کرنے سے باقی افراد  کے ذمہ سے  واجب قربانی ساقط نہیں ہوگی۔فقط واللہ اعلم

تفصیل  کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :

کیا سارے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کرنا کافی ہے؟

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200136
تاریخ06-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں