بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خصی جانور کی قربانی کیوں جائز ہے؟

سوال

خصی  جانور کی قربانی جائز ہے،  کیوں؟

جواب

رسول اللہ ﷺ سے خصی جانور کی قربانی ثابت ہے۔

"عن جابر قال: ذبح النبي صلی الله علیه وسلم یوم الذبح کبشین أقرنین أملحین موجوئین ... الحدیث". (مشکاة المصابیح، کتاب الصلاة، باب في الأضحیة، الفصل الثاني، (ص:128) ط: قدیمي کراچی)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قربانی کے دن دو سینگ والے، چت کبرے (سیاہ رنگ کے جن کے سر سفید تھے)،  خصی دنبے ذبح کیے ۔۔۔ الخ

"ولا بأس بإخصاء البهائم؛ لأن فیه منفعة البهیمة والناس". (الهدایة، کتاب الکراهیة، فصل في البیع،  ۴/ ۴۷۴)
"قال رحمه اﷲ: (وخصى البهائم) یعني یجوز؛ لأن علیه الصلاة والسلام ضحی بکبشین أملحین موجوء ین، والموجوء: هو الخصي؛ ولأن لحمه یطیب به، ویترك النکاح فکان حسناً". (البحرالرائق، کتاب الکراهیة، فصل في البیع، رشيدية ۸/ ۲۰۴)
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200132
تاریخ06-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں