بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی اور کی طرف سے عمرہ کرنا

سوال

 ایک آدمی حج کے لیے گیا،  اس نے عمرے کا احرام کسی اور کے نام کا باندھا اور عمرہ کر لیا،  اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

جو شخص حجِ تمتع (ایک سفر میں عمرہ اور حج جمع کرنے) کے ارادے سے جائے اسے چاہیے کہ اپنے ملک سے جاتے ہوئے عمرہ کا احرام اپنی طرف سے باندھے اور حرم پہنچ کر عمرہ کرکے حلال ہوجائے، پھر اگر چاہے تو حج سے پہلے یا حج کے بعد دوسرے کی طرف سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرلے، اس کے دو طریقے ہیں:

1 ۔عمرہ اپنی طرف سے ادا کرے اور اس کا ثواب دوسرے کو ہدیہ کردے، اس صورت میں احرام وتلبیہ میں نیت اپنی ہی کرے گا۔

2 ۔ دوسروں کی طرف سے عمرہ ادا کرے،  احرام باندھتے وقت ان کی طرف سے احرام باندھنے کی نیت کرے، اور تلبیہ بھی ان کی طرف سے پڑھے۔ باقی مناسک یسی طرح ادا کرے۔

اور جب حج کے دن ہوں (یعنی 8 ذوالحجہ کو) اپنی طرف سے حج کا احرام باندھ کر مناسکِ حج ادا کرلے۔

اگر مذکورہ حاجی نے ایسے ہی کیا کہ یہاں سے جاتے ہوئے عمرے کا احرام اپنی طرف سے باندھ کر عمرہ کیا، پھر حرم پہنچ کر دوسرے کی طرف سے عمرہ کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200112
تاریخ05-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں