بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا اپنے دو حصے کسی اور کو دے کر اپنا مکمل جانور کرنا جائز ہے؟

سوال

میں نے ایک مہینہ پہلے قربانی کے لیے جانور میں دو حصے اپنے ڈالے تھے،  اب چوں کہ میں نے عقیقہ بھی کرنا ہے اپنے بیٹے کا۔  اور اب میرا ارادہ یہ بن رہا ہے کہ میں اپنے حصے کسی اور کو دے کر میں اپنا الگ جانور لے سکتا ہوں، تاکہ میری قربانی بھی ہوجائے اور بیٹے کا عقیقہ بھی ہوجائے، اور کسی مرحوم کی بھی قربانی ہوجاۓ،  کیا پہلے حصے کسی کو دے سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے اپنے حصے  کسی اور کو دینا اور اپنا مکمل جانور جس میں آپ کی قربانی اور بچوں کے عقیقہ و دیگر کے حصے ہوں  کرنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200092
تاریخ05-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں