بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالجبر تبرعات وصول کرنا درست نہیں

سوال

ہمارے ملک بنگلادیش میں بہت سارے مدرسوں میں قربانی کے چمڑے جمع  کیے جاتے ہیں، میں جس مدرسے کا مدرس ہوں وہاں بھی کلکشن ہوتا ہے، لیکن اس سال فیصلہ کیا گیا ہے کہ سب طلبہ کو چھٹی دی جائے گی،  البتہ کچھ مقرر ہ رقم طلبہ کو ضرور مدرسے میں جمع کرانی پڑے گی،  اس طرح طلبہ سے لینا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں طلبہ سے کھالیں جمع کروانے کے بجائے چھٹی  دینے کا فیصلہ کرکے طلبہ کو مقررہ رقم مدرسہ میں جمع کرانے کا پابند کرنا شرعاً درست نہیں،  اس لیے کہ بالجبر تبرع کی شرعاً اجازت نہیں، البتہ ترغیب دینے پر طلبہ اپنی  مرضی سے مدرسہ میں تبرعات اگر جمع کراتے ہیں تو اس کی اجازت ہے۔ 

اگر مدرسے میں رقم کی ضرورت ہے تو بالجبر  تبرعات جمع کروانے کا پابند کرنے کے بجائے طلبہ سے تعلیمی اخراجات کی مد میں بطورِ  فیس رقم لی جا سکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200089
تاریخ05-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں