بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام مال سے قربانی

سوال

میرے ساتھ میرابڑابھائی مل کرایک بیل لاناچاہتا ہےقربانی کے لیے،لیکن اس کےپیسےمشکوک ہیں، وہ جوا بھی کھیلتا ہے، اگرمیں اسےساتھ شریک نہ کروں توبہت جھگڑاکرے گا، میں اگراپنےحلال پیسےسےبیل لے آؤں  اوراس کےمشکوک پیسے لے کر بیل کی قیمت میں نہ  ملاؤں، کسی اورکام میں میرےخرچ کرلوں توقربانی پر اثرپڑے گا یا نہیں؟

جواب

اگر آپ اپنی حلال رقم سے قربانی کا جانور لاکر  اسے (بتاکر کسی طرح) بغیر معاوضہ کے اپنے ساتھ شریک کرلیتے ہیں تو قربانی درست ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200071
تاریخ04-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں