بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور کی دو تہائی دم موجود ہے، قربانی کا حکم

سوال

جانور کی دو تہائی دم موجود ہے،  لیکن ایک تہائی نہیں ہے،  یعنی زیادہ ہے اور کم نہیں ہے،  کیا اس جانور کی قربانی جائز ہے؟

جواب

اگر جانور کی دم ایک تہائی مقدار(یعنی تیسرے حصہ کے برابر)یااس سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی درست نہیں ہوگی،اور اگر تیسرے حصہ سے کم کٹی ہو تو قربانی درست ہوگی۔

’’ (الجواب)ثلث حصہ کی مقدار، یااس سے زیادہ دم بریدہ بھیڑ وغیرہ کی قربانی درست نہیں ۔’’ ہدایہ‘‘ میں ہے ۔’’ جس جانور کے کان اور دم کٹی ہو۔ اس کی قربانی جائز نہیں ۔‘‘
ولایجزیٔ مقطوعة الأذن والذنب، أما الأذن فلقوله علیه السلام: استشرفوا العین والأذن أي اطلبواسلامتهما، وأما الذنب فلأنه عضو کامل مقصود، فصار کالأذن‘‘. (الهدایة، ص ۴۳۱ ج۴ کتاب الأضحیة)

خصی جانو رکی قربانی منصوص اور آپ کی پسندیدہ ہے ۔ اس پر دم بریدہ جانور کو قیاس نہیں کرسکتے۔ دم بریدہ جانور کی قربانی اس لیے جائز نہیں کہ دم ایک کامل عضو ہے ۔یہ بیکار نہیں ‘‘۔ (رحیمیہ 49-10) فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200063
تاریخ04-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں