بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قربانی سے قبل بال کاٹنے سے کوئی کفارہ لازم نہیں

سوال

قربانی کرنے سے پہلےزیرِ ناف بال بھول کر صاف کر نےکا کفارہ کیا ہے ؟

جواب

قربانی کرنے والے شخص  کے لیے ذی الحجہ کا چاند دکھنے کے بعد سے قربانی کرنے تک بال و ناخن نہ کاٹنا مستحب عمل ہے اور باعثِ ثواب ہے، تاہم بال کاٹنا ممنوع نہیں ہے، لہذااگر کسی نے بال یا ناخن قربانی سے پہلے کاٹ لیے تو گناہ گار نہ ہوگا،اور نہ ہی اس عمل پر کوئی کفارہ لازم ہے۔البتہ مستحب عمل کے ثواب سے محروم رہ جائے گا۔اور اگر غیر ضروری بال یا ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن یا اس سے زیادہ گزرچکے ہوں تو پھران ایام میں ہی  بال /ناخن کاٹ لینے چاہییں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200043
تاریخ03-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں