قربانی سے قبل بال کاٹنے سے کوئی کفارہ لازم نہیں
سوال
قربانی کرنے سے پہلےزیرِ ناف بال بھول کر صاف کر نےکا کفارہ کیا ہے ؟
جواب
قربانی کرنے والے شخص کے لیے ذی الحجہ کا چاند دکھنے کے بعد سے قربانی کرنے تک بال و ناخن نہ کاٹنا مستحب عمل ہے اور باعثِ ثواب ہے، تاہم بال کاٹنا ممنوع نہیں ہے، لہذااگر کسی نے بال یا ناخن قربانی سے پہلے کاٹ لیے تو گناہ گار نہ ہوگا،اور نہ ہی اس عمل پر کوئی کفارہ لازم ہے۔البتہ مستحب عمل کے ثواب سے محروم رہ جائے گا۔اور اگر غیر ضروری بال یا ناخن کاٹے ہوئے چالیس دن یا اس سے زیادہ گزرچکے ہوں تو پھران ایام میں ہی بال /ناخن کاٹ لینے چاہییں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

