بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کی بجلی استعمال کرنے کی تلافی

سوال

 میں نے اپنے گھر بجلی کی چوری استعمال کی، جس کی صحیح مقدار تو مجھے معلوم نہیں، اب جب کہ میں اس بات کی تلافی کرنا چاہتا ہوں اور میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ محکمہ بجلی چوری کا اماؤنٹ سب صارفین میں تقسیم کردیتا ہے، اس صورت میں مجھے کس طرح تلافی کرنی چاہیے، اور اس وقت کے الیکڑک نہیں تھی، بلکہ کے ای ایس سی تھی؟

جواب

چوری کی بجلی استعمال کرنا شرعاً  ناجائز اور قانوناً جرم ہے، لہذا اس پر خوب توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے اور متعلقہ ادارے تک کسی بھی طرح اس رقم کو واپس کرنا ضروری ہے، اگر  مقدار کا اندازا  نہیں ہے تو  اپنے  ماہانہ بجلی کے استعمال کے یونٹ کو دیکھ کر اندازا  لگایا جائے کہ پہلے کس قدر بجلی چوری کی استعمال کی ہے، اس اندازے سے احتیاطاً  کچھ زیادہ رقم جمع کرادی جائے۔

’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘:

"غصب دراهم إنسان من کیسه، ثم ردها فیه بلا علمه برئ، وکذا لو سلمه إلیه بجهة أخری کهبة، أو إیداع، أو شراء، وکذا لو أطعمه فأکله خلافاً للشافعي. زیلعي". (۹/۲۶۷ ، کتاب الغصب ، مطلب في رد المغصوب وفیما لو أبی المالک قبوله) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200035
تاریخ03-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں