جس بھینس کا ایک تھن نہ ہو اس کی قربانی کا حکم
سوال
بھینس کا ایک تھن پیدائشی نہ ہو اور تین تھن ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جس بھینس کا پیدائشی طور پر ایک تھن نہ ہو اس کی قربانی جائز ہوگی۔
’’وفي التتارخانیة: والشطور لاتجزء، وهي من الشاة ماقطع اللبن عن إحدی ضرعیها، ومن الإبل والبقر ماقطع من ضرعیها؛ لأن لکل واحد منها أربع أضرع‘‘. (ردالمحتار، جلد 6 ص: 324 - ط: سعید کراچی) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144012200022
تاریخ03-08-2019

