بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا مدرسہ سے تنخواہ وصول کرنا جائز ہے؟

سوال

میں ایک مدرسہ میں ایک دو سال سے قرآن مجید  محض اللہ کی رضا کے لیے پڑھاتی ہوں، اور اب تک کوئی تنخواہ وصول نہیں کرتی، میں خود بھی طالبہ ہوں، مہنگائی کے اس دور میں میرے گھر والے کہہ  رہے ہیں کہ میں تنخواہ لیا کروں، اور  میری معلمہ جو کہ مدرسہ انتظامیہ میں بھی ہیں بھی زور دے رہی ہیں کہ میں بچیوں کی فیس میں سے تنخواہ لے لیا کروں، اور تم قرآن پڑھانے کی تنخواہ نہیں لے رہیں،  یہ جو تم وقت دے رہی ہو اس کی اجرت ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں تنخواہ لے سکتی ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں آپ کے  لیے مدرسہ انتظامیہ سے تنخواہ مقرر کروا کر ہر ماہ تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012200003
تاریخ02-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں