بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طائف کے میقات سے عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد مکہ میں داخل ہوتے وقت جعرانہ سے دوبارہ عمرہ کے احرام کی نیت کرنی چاہیے یا نہیں؟

سوال

اگر کوئی شخص طائف کی میقات سے عمرہ کا احرام باندھ لے اور تلبیہ پڑھ لے، پھرراستہ میں مسجدِ  جعرانہ میں گاڑی رکے تو کیا یہ شخص جعرانہ سے عمرہ کی نیت دوبارہ کرسکتا ہے؟ یا مسجدِ  جعرانہ میں اس شخص کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے؛ تاکہ ان دونوں میقات کا ثواب مل جائے ؟

جواب

جو شخص طائف سے مکہ آتے ہوئے اپنے میقات سے عمرہ کی نیت کرکے عمرہ کا احرام باندھ لے اور تلبیہ پڑھ لے تو وہ محرم بن جاتا ہے؛  لہٰذا جعرانہ پہنچ کر دوبارہ عمرہ کی نیت نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ وہ پہلے سے ہی محرم ہے، مسجدِ جعرانہ میں (اگر فرض نماز کا وقت نہ ہو) زیادہ سے زیادہ وہ نفل نماز پڑھ سکتا ہے، باقی طائف سے آتے ہوئے چوں کہ جعرانہ اس کا میقات ہی نہیں ہے،  اس  لیے اسے  جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھنے کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔

مکہ میں رہنے والا یا مکی کے حکم میں جو شخص ہو اس کے لیے مسجدِ عائشہ سے عمرے کا احرام باندھنا افضل ہے، میقات سے آنے والے شخص کے لیے کسی میقات کی الگ سے کوئی خاص فضیلت منقول نہیں  ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201307
تاریخ02-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں