بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر فقیر کا قربانی کی نیت سے جانور خریدنے کے بعد انتقال ہو جائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

فقیر نے جب قربانی کی نیت سے جانور خریدا، ایامِ اضحیہ سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا تو ورثہ پر لازم کیوں ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فقیر کا قربانی کی نیت سے جانور خریدنا نذر کے قائم مقام ہے،  اس لیے اگر فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا  اور اس کا انتقال ہو گیا تو اس کی نذر اس کے ذمہ پر باقی رہی، اب اگر اس کے ورثاء  ان کی طرف سے مرحوم کی نذر پوری کریں تو یہ ان کی طرف سے مرحوم پر احسان ہو گا، باقی وہ جانور ترکہ میں شامل ہو گا اور ورثاء اس میں تصرف کرنے میں خود مختار ہوں گے، قربانی کرنا لازم نہیں ہو گا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 66):
"أن الشراء من الفقير للأضحية بمنزلة النذر".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 72):

"وذكر في الأصل: إذا اشترك سبعة في بدنة فمات أحدهم قبل الذبح فرضي ورثته أن يذبح عن الميت جاز استحساناً والقياس أن لايجوز".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201305
تاریخ02-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں