بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عبدالریان نام رکھنا

سوال

’’عبدالریان‘‘  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی  نام کے شروع میں ’’عبد‘‘  کا  لفظ لگانا اس وقت درست ہوتا ہے  جب لفظ ’’عبد‘‘  کے بعد اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام استعمال کیا جائے،  جیسے: ’’عبد الرحمن‘‘  یعنی ’’رحمٰن کا بندہ‘‘  اور اگر لفظ ’’عبد‘‘  کے بعد اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام استعمال نہ کرنا ہو تو ایسے نام کے شروع میں لفظ ’’عبد‘‘  استعمال کرنا درست نہیں۔ 

آپ نے سوال میں ’’ریان‘‘  نام سے متعلق سوال کیا ہے ؛ چوں کہ ’’ریان‘‘  اللہ تعالی کے ناموں میں سے نہیں، بلکہ جنت کے دروازوں میں سے  ایک دروازے کا نام ہے،  اس لیے اس نام سے پہلے لفظ "عبد" لگانا درست نہیں ہو گا، صرف ’’ریان‘‘  نام رکھ سکتے ہیں، اس کا مطلب ہے ’’سیراب کرنے والا‘‘۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201301
تاریخ02-08-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں