بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلبہ کے بیانات کی ویڈیو بنانا

سوال

 عبداللہ ایک اسلامک انسٹیٹیوٹ میں انگریزی ٹیچر ہے،  انسٹیٹیوٹ والوں کا کہنا ہے کہ آپ طلبہ  کے بیانات کی ویڈیوز بناکر یوٹیوب پر اَپ لوڈ کرو،  کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟

جواب

شریعتِ  مطہرہ میں کسی شدید ضرورت کے بغیر جان دار  کی تصویر کشی ناجائز اور حرام ہے، اور جان دار  کی ویڈیو بھی تصویر کے حکم میں ہے، لہذا عبد اللہ کے لیے  طلبہ کے بیانات کی ویڈیو بنانا اور اس کو اَپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہے، ہاں جان دار کی تصویر  کے بغیر ویڈیو  بناکر طلبہ کی آڈیو ریکارڈنگ یوٹیوب پر اَپ لوڈ کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201250
تاریخ31-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں