بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل کمپنی کی طرف سے انعامی بیلنس

سوال

 یہاں ایران میں ایک موبائل کمپنی اپنے کسی صارف کو ایک اپلیکیشن کا میسیج بھیجتی ہے، اس میسیج کو آگے 20 لوگوں کو فارورڈ کرنےکی دعوت دیتی ہے, اب فارورڈ کرنے والے کی دعوت پر اگر 20  آدمی اپنے موبائلوں میں اس ایپ کو استعمال کریں گے تو  اس پہلے صارف(فارورڈ کرنے والے) کو کمپنی کی طرف سے مثلاً ہزار روپے کا فری بیلنس ملے گا. سوال یہ ہے کہ کیا اس شخص کے  لیے اس فری بیلنس کا استعمال شرعاً  کیسا ہے؟ یاد رہے یہ شخص جب بیس آدمیوں کو میسیج بھیجتا تو وہ میسیج فری نہیں ہوتے،  بلکہ اس کے بھی بیلنس میں کچھ کٹوتی ہوتی ہے.

جواب

مذکورہ موبائل کمپنی  کی طرف سے مذکورہ  انعامی  اسکیم کے  نتیجے میں  ملنے والے فری بیلنس کا استعمال شرعاً جائز ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201249
تاریخ31-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں