بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خیالات میں طلاق دینا/ طلاق معلق

سوال

(۱) دل ہی دل میں کہناکہ مجھ پر اپنی بیوی طلاق ہے توکیااس سے طلاق ہوجاتی ہے؟

(۲) بیوی کےساتھ  انجکشن کے متعلق باتوں پر گرم ہونےکےبعد یہ کہناکہ اگرآپ نےانجکشن لگایاتو تو میرے اوپرطلاق۔ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

(۱) طلاق کے بارے میں سوچنے سے یا خیالات میں طلاق دینے سے طلاق نہیں ہوتی،  لیکن اگر اسی سوچ کو زبان پر لے آیا اور زبان سے طلاق کے الفاظ کہہ دیے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔

(۲)مذکورہ شرط کے ساتھ طلاق کو معلق کرنے کے بعد جب بھی شرط پائی جائے گی (یعنی بیوی نے انجکشن لگایا) تو بیوی پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201243
تاریخ31-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں