بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

علاج کی غرض سے ناک کی پلاسٹک سرجری کرانا

سوال

 میری ایک عزیزہ کو ایک تکلیف لاحق ہوئی،  جس کی وجہ سے وہ ناک سے سانس نہیں لے سکتیں،  منہ سے سانس لینا پڑتا تھا،  چوں کہ مستقل طور پہ ایسا کرنا اذیت کا باعث تھا تو ڈاکٹر نے ناک پر ایک ٹیپ لگا دی جس سے ناک کے ذریعہ سانس لینا ممکن ہوگیا، اس ٹیپ کی وجہ سے ناک کی صورت بگڑ گئی، کیا وہ ناک کی صورت کے بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے پلاسٹک سرجری کروا سکتی ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ عورت کے لیے بیماری کے علاج اور عیب کے ازالے  کے لیے اپنے ناک کی پلاسٹک سرجری کرانا جائز ہے، بشرط یہ کہ اس میں  دوسرے انسان کا کوئی جزء بدن  مثلا جلد وغیرہ  کا استعمال نہ کیا جائے ۔

"عن عبد الرحمن بن طرفة أن جده عرفجة بن أسعد قُطِع أنفُه يومَ الكلابِ فاتَّخذ أنفًا من ورِقٍ، فأنتن عليه، فأمره النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، فاتَّخذ أنفًا من ذهبٍ". (سنن أبي داؤد ، برقم 4232) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201242
تاریخ31-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں