بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائے نماز کو نماز کے علاوہ امور (استری وغیرہ) میں استعمال کرنا

سوال

جائےنماز جو نماز کے لیے عام طورپر استعمال کی جاتی  ہے،  کیا وہ دوسرے کاموں مثلاً استری کے لیے بچھاکر یا میز پر ڈال کر میزپوش کے طور پروغیرہ وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے?

جواب

جائے نماز کو دوسرے کاموں میں استعمال کرنا فی نفسہ جائز ہے،  لیکن ادب کا تقاضا یہ ہے کہ جس چیز کو نماز کے لیے مختص کیا گیا ہے، جب تک وہ نماز پڑھنے کے لیے استعمال ہورہی ہو  اسے دوسرے کاموں میں بغیر ضرورتِ شدیدہ کے استعمال نہ کیا جائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201240
تاریخ31-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں