بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آج کل (اگست ۲۰۱۹ میں) قربانی کا نصاب

سوال

آج کل قربانی کا نصاب کتنا ہے،  جس سے قربانی واجب ہوتی ہے؟  برائے مہربانی فقہی حنفی کی روشنی میں مسئلہ حل کریں!

جواب

قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقۂ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں عید الاضحی کے تین دنوں میں ( یعنی دس ذوالحجہ کی صبح صادق سے لے کر بارہ ذوالحجہ کا سورج غروب ہونے تک) کسی وقت ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ضروریاتِ اصلیہ کے علاوہ اتنی مالیت کا مال (نقدی، سونا ،چاندی ، مال تجارت وغیرہ کا مجموعہ)  یا ضرورت سے زائد سامان ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد  ہو  تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔ اور ایسے شخص کے لیے زکاۃ لینا بھی جائز نہیں ہے،  اور چاندی کی فی تولہ قیمت آج کل (۴ اگست ۲۰۱۹ )تقریباً ۱۱۱۰ روپے ہے، اس حساب سے چاندی کا نصاب تقریباً اٹھاون ہزار دو سو پچھتر (۵۸۲۷۵ ) روپے بنتا ہے، فی تولہ چاندی کی قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے اس لیے عید قربان کے دن جو قیمت ہوگی وہی معتبر ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1/ 191):
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201234
تاریخ30-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں