بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دورانِ سال صاحبِ نصاب نہ رہا تو کیا مستحقِ زکاۃ ہوگا؟

سوال

دوران سال اگر صاحبِ  نصاب نہ رہے تو کیا وہ مستحق زکاۃ بن سکتا ہے؟

جواب

زکاۃ  کا مستحق وہ شخص ہے جس کے پاس حاجتِ  اصلیہ سے زائد اتنا کسی بھی قسم کا مال یا سامان (زیور ، نقدی، مکان، زمین، اسباب ،کتابیں وغیرہ) نہ ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے ، ایسا شخص زکاۃ  لینے پر مجبور ہو تو لے سکتا ہے۔ لہذا جب دورانِ  سال اتنی مالیت بھی نہ ہو تو زکاۃ لینا جائز ہے، مطلقاً صاحبِ نصاب نہ رہنے سے زکاۃ لینا جائز نہیں ہوگا۔ 

" هو فقیر وهو من له أدنی شيءٍ أي دون نصاب أوقدر نصاب غیر نام مستغرق في الحاجة". (الدرالمختار مع الشامیة، باب الصرف ج۲ ص ۳۳۹) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201230
تاریخ30-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں