بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خصی کرتے ہوئے جس جانور کے خصیتین یا آلہ تناسل کٹ جائے اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

سوال

اگر کسی جانور کو خصی کرتے وقت اس کا  آلۂ تناسل یا خصیتین بالکل کٹ جائیں تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر جانور کو خصی کرتے ہوئے اُس کے خصیتین اور آلہ تناسل کٹ جائیں، تو اس کی قربانی جائز ہے۔ فتاوی شامی میں ہے :

"تجوز التضحیة بالمجبوب العاجز عن الجماع".  ( رد المحتار، كتاب الأضحية، ٩/ ٤٧٠، ط: دار عالم الكتب ) 

اگر مقطوع الذکر جانور کے علاوہ کوئی جانور بسہولت میسر ہو تو اس کی قربانی زیادہ بہتر ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201217
تاریخ29-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں