بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو سرمہ لگانا

سوال

میت کو سرمہ لگانا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

میت کو سنت طریقے کے مطابق عطر کا فور لگایا جائے۔ سرمہ نہ لگایا جائے، یہ زینت ہے اور انتقال کے بعد میت  زینت سے بے نیاز ہوچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ بالوں میں کنگھی نہ کی جائے بال او رناخن نہ کاٹے جائیں ۔(فتاوی رحیمیہ) لہٰذا میت کو سرمہ لگانا درست نہیں ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

( قوله : ولايسرح شعره ولحيته ، ولايقص ظفره وشعره ) ؛ لأنها للزينة ، وقد استغنى عنها، والظاهر أن هذا الصنيع لايجوز. قال في القنية: أما التزين بعد موتها والامتشاط وقطع الشعر لايجوز، والطيب يجوز". (5/278)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201200
تاریخ29-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں