بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کا بیٹے کی طرف سے قربانی میں حصہ ڈالنا

سوال

میں خود جاب کرکے روپے کماتا ہوں، اس سال زکات بھی دی تھی، اب قربانی ہر سال والد صاحب میری طرف سے کرتے ہیں(گائے کا ایک حصہ) تو وہ کافی ہے یا میں الگ سے کروں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ پر قربانی واجب ہے اور آپ کے والد صاحب آپ کی اجازت سے گائے میں ایک حصہ آپ کی واجب قربانی کاشامل کرتے ہیں تو یہ جائز ہے، اس سے آپ کی قربانی ادا ہوجائے گی، الگ سے قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور اگر آپ پر قربانی واجب نہ ہو (یعنی عید الاضحٰی کے تین دنوں میں ضرورت سے زائد نصاب کے برابر مال یا سامان ملکیت میں موجود نہ ہو) تو  تب والد کا آپ کی طرف سے نفل قربانی کرنے کا ثواب آپ کو مل جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201197
تاریخ29-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں