بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس جانور کی کھال پر لفظِ اللہ یا لفظِ محمد لکھا ہوا ہوتاہے اس کی قربانی کا حکم

سوال

یہ جو بتایا جا رہا ہے اور روزانہ ویڈیو میں دکھایا جاتا ہے کہ بکروں پر لفظ ’’اللہ‘‘  لکھا ہوا ہے اور کہیں ’’محمد‘‘  لکھا ہوا ہے اور اس کی علماءِ کرام بھی تصدیق کر رہے ہیں تو کیا ایسے بکروں کی قربانی کا ثواب اور جانوروں سے زیادہ ملے گا؟  کیا اس کی کوئی حدیث میں خاص فضیلت آئی ہے؟

جواب

قربانی کے جانور (بکروں) وغیرہ کے جسم پر اگر ایسے نقش و نگار ہوں جس سے لفظ "اللہ"یا لفظ "محمد" لکھا ہونا سمجھ آرہا ہو تو یہ بے شک اللہ تعالٰی کی قدرت کی نشانی ہے, لیکن یہ امور چوں کہ اتفاقی ہوتے ہیں اس لیے ان پر قربانی کے افضل یا غیر افضل ہونے کا مدار نہیں ہے, قربانی کے افضل ہونے کی اصل بنیاد اخلاص ہے, اور اخلاص کے ساتھ اپنی وسعت کے مطابق اچھا موٹا تازہ ,صحت مند اور خوب صورت جانور اللہ کے لیے قربان کرنا افضل ہے۔

دوسری بات یہ بھی ہے کہ آج کل بہت سے لوگ صرف دھوکا دینے کے لیے خود سے جانور پر اس طرح کے نقش و نگار بنادیتے ہیں، تاکہ ان کی یا جانور کی شہرت ہوجائے, اس لیے اس طرح کی باتوں پر بلاتحقیق یقین نہیں کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201168
تاریخ28-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں