بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خانہ کعبہ کے اندر یا اردگرد انبیائے کرام کی قبریں موجود ہیں؟ 

سوال

خانہ کعبہ کے اندر یا اردگرد انبیائے کرام کی قبریں موجود ہیں؟ 

جواب

احادیثِ  مبارکہ میں مسجد حرام کی حدود میں انبیاءِ کرام علیہم السلام  کی قبریں موجود ہونے کی تصریح موجود ہے ۔حدیث مبارک ملاحظہ ہو:

المعجم الكبير للطبراني - (10 / 145):
" عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُعَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلُوهُ إِلا عَنْ ثَلاثَةَ عَشَرَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ، كُلُّهُنَّ فِي الْقُرْآنِ ... قَالَ:وَأَوَّلُ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْمَلائِكَةُ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي لقُبُورًا مِنْ قُبُورِ الأَنْبِيَاءِ، وَكَانَ النَّبِيُّ إِذَا آذَاهُ قَوْمُهُ خَرَجَ هُوَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ فَعَبَدَ اللَّهَ فِيهَا حَتَّى يَمُوتَ".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201162
تاریخ28-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں