بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 سعودی عرب کے معروف ہوٹل البیک کی مرغی کا حکم

سوال

 سعودی عرب کے معروف ہوٹل ’’البیک‘‘  کی مرغی کا کیا حکم شرعی ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مرغی کے حلال یا حرام ہونے کا دارومدار  اس کے طریقہ ذبح پر ہے، اگر مرغی کو اسلامی اصولوں پر ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت حلال ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا گوشت حلال نہیں ہو گا۔البیک والے اپنی ویب سائٹ پر اس بات کی صراحت کرتے ہیں کہ ان کی مرغی برازیل سے بر آمد شدہ ہے۔

لہذا جب تک کسی با وثوق ذریعہ سے اس بات کا علم نہ ہو جائے کہ اس کا ذبح اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہوتا ہے اس کا کھانا جائز نہیں ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

سعودی عرب میں البیک وغیرہ کی مرغی کھانے کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144010201158
تاریخ28-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں