بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کا نام شریم رکھنا

سوال

 میں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام شریم رکھا ہے، السعود الشریم کے نام پر، لیکن اس کا مطلب معلوم نہیں، اس نام کے مطلب کے بارے میں راہ نمائی فرمائیں اور بغیر مطلب جانے شخصیت کی کسی صفت سے مانوس ہو کرنام رکھنا کیا جائز ہے جیسا ہم نے امام کعبہ کے نام پر نام رکھا ہے؟ 

جواب

شریم شرم سے ماخوذ ہےاور شرم(ض) کا معنی ہے:پھاڑنا اور شرم(س) کا معنی ہے :پھٹنا،جن امام کعبہ کی نسبت سے آپ نے یہ نام رکھا ہے ان کا نام سعود  ہے جب کہ شریم ان کے قبیلے کا نام ہے، لہذا اگر مذکورہ امام کعبہ کی نسبت سے نام رکھنا ہے تو سعود نام رکھیں، نیز نام کے معنی و مطلب کی طرف التفات کیے بغیر  اللہ کے نیک بندوں کے ناموں پر نام رکھنا امر مستحسن ہے،لیکن شریم قبیلے کا نام ہے شخصیت کا نام نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201151
تاریخ28-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں