بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 عشر نکالنے میں دسواں یا بیسواں حصے کی علت

سوال

 عشر نکالنے میں دسواں یا بیسواں حصے کی علت صرف سیرابی ہی ہے یا اور کچھ بھی ہے ?

جواب

عشری زمین میں عشر (دسواں) اور نصف عشر(بیسواں) واجب ہونے کا فرق زمین کے بارش کے پانی اور کنواں وغیرہ کے پانی سے سیراب کرنے کے فرق کی بنا پر ہے، یعنی زمین سیراب کرنے میں اگر محنت و مشقت اٹھانی پڑتی ہو یا پانی خریدنا پڑتا ہو تو ایسی صورت میں پورے عشر کی بجائے نصفِ  عشر لازم ہوتا ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (2 / 328):
" لأن العلة في العدول عن العشر إن نصفه في مستقى غرب ودالية هي زيادة الكلفة كما علمت". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201144
تاریخ27-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں