بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استخارہ کی حقیقت

سوال

سات روز استخارہ کیا، خواب آئے، لیکن کچھ یاد نہیں، اللہ تعالی سے مشورہ کیا ہو تو وہ اپنے بندوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، میرے استخارے کا کیا ہوا؟

جواب

کسی جائز کام میں تردد ختم کرنے کے لیے استخارہ کرنا مستحب ہے۔  اور استخارہ کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی سے خیر طلب کرتا ہے،  یعنی یہ دعا کرتا ہے کہ جس کام میں میرے لیے خیر اور بہتری ہو،  وہی کام میرے لیے مقدر فرمادیجیے، جو کام میرے لیے بہتر نہیں وہ مجھے کرنے ہی نہ دیجیے۔  لہذا استخارہ کرچکنے کے بعد جس کام کی طرف رجحان ہو وہی کام کرلینا چاہیے۔ اور اسی میں اپنے لیے بھلائی اور بہتری سمجھنی چاہیے۔ استخارہ کے بعد خواب دیکھنا ضروری نہیں،آپ کا قلبی رجحان جس طرف ہے وہی کام کرلیجیے اور اسی میں بھلائی سمجھیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201141
تاریخ27-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں