بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں اپنی قربانی چھوڑ کر والدہ کی طرف سے قربانی کرنے کا حکم

سوال

میں سکول معلم ہوں اور صاحبِ استطاعت ہوں، میں قربانی کے لیے اپنی والدہ کے نام سے اپنا حصہ رکھنا چاہتا ہوں، وہ حیات ہیں الحمدللہ۔ تو  آج ایک مولانا صاحب نے بتایا یہ جائز نہیں، پہلے اپنی قربانی کرو، اب اس کے بارے میں کیا فتوی ہے؟

جواب

اگر آپ صاحبِ استطاعت یعنی صاحبِ نصاب ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ پہلے اپنی طرف سے قربانی کریں، کیوں کہ یہ شرعاً  آپ پر واجب ہے،  اپنی قربانی نہ کرنے  کی صورت میں آپ گناہ گار ہوں گے۔ البتہ اپنی قربانی کے ساتھ اگر والدہ کی طرف سے بھی قربانی کرنے  کی استطاعت ہو تو پھر والدہ  کی طرف سے بھی کرلیں، یہ بھی بڑی سعادت اور بڑے ثواب کی بات ہے، لیکن یہ آپ کے ذمہ لازم نہیں ہے اور اس کو نہ کرنے سے آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔ اس لیے اپنی قربانی چھوڑ کر والدہ  کی طرف سے قربانی کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201131
تاریخ27-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں