بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی خالہ سے نکاح جائز نہیں

سوال

اگر زینب اور رقیہ دونوں حقیقی بہنیں ہیں اور عبد اللہ نے مدت رضاعت میں زینب کا دودھ پیا تو عبد اللہ کا نکاح رقیہ سے درست ہوگا  یا نہیں؟ 

نوٹ: نکاح ہو چکا ہے چار سال ہوگئےہیں  اور زینب اقرار  بھی کررہی ہے رضاعت کا۔ اس کا جواب دے کر مہربانی کا معاملہ کریں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب عبداللہ نے زینب کا دودھ پیا ہے تو زینب عبداللہ کی رضاعی ماں اور رقیہ عبداللہ کی رضاعی خالہ ہوگئی، اور جیسے نسبی خالہ  سے نکاح جائز نہیں ہے اسی طرح رضاعی خالہ سے بھی نکاح جائز نہیں ہے؛  لہذا عبداللہ کا رقیہ سے نکاح جائز نہیں تھا، اس پر لازم ہے کہ رقیہ سے جلد از جلد جدائیگی اختیار کرلے۔

یہ جواب اس صورت میں ہے کہ عبداللہ، زینب کے دودھ پلانے کی خبر کی تردید نہ کرے۔

النتف في الفتاوى للسغدي (1 / 253)، دار الفرقان:
"...والصنف الثالث: الأخوة والأخوات من أي وجه كانوا لأب وأم أو لأب أو لأم وأولاد جميعهم وإن بعدوا...ما يحرم بالرضاع.
فأما الرضاع فيحرم منه ما يحرم بالنسب من ذوي الرحم المحرم، وهم أربعة أصناف الذين قدمنا ذكرهم". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201120
تاریخ27-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں