ایک بیوہ، تین بیٹوں میں میراث کی تقسیم
سوال
اگر میت کے 3 بیٹے، 1 بیوی، 1 بھائی، اور 3 بہنیں ہیں، اور میت کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا. تو وراثت کس کس کو اور کس طرح تقسیم ہو گی ؟
جواب
اگر مرحوم کے کل ورثاء یہی ہیں تو مرحوم کے ترکے سے حقوقِ متقدمہ (تجہیز وتکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، میت پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکے سے) ادا کرنے کے بعد ترکے کا ساڑھے بارہ فیصد بیوہ کو، اور 29اعشاریہ 16فیصد ہر ایک بیٹے کو ملے گا۔ بھائی بہن کو کچھ نہ ملے گا۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

