شادی کے بعد بیوی کے شیعہ والدین سے ملوانا
سوال
ایک شیعہ رافضی لڑکی سنی لڑکے سے نکاح کرنے پر راضی ہوجائے، اور نکاح کے وقت لڑکے سے کہے کہ میں اپنے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی، مگر شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی والدین کے گھر جانے کی ضد کرنے لگے، جب کہ اس کے والدین اب تک شیعہ ہوں، ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون کے شیعہ عقیدہ سے توبہ تائب ہونے کے بعد اس سے نکاح کیا ہو تو اس صورت میں مذکورہ نکاح درست ہوگا، بصورتِ دیگر نکاح درست نہ ہوگا۔ بہرحال پہلی صورت میں جب کہ نکاح منعقد ہوگیا ہو ، میکے بھیجنے کی صورت میں عقیدہ کے فساد کا قوی اندیشہ ہے، لہذا لڑکی کے والدین کو اپنے ہاں بلواکر یا کسی اور مقام پر اپنی نگرانی میں ملوا سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

