بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے بعد بیوی کے شیعہ والدین سے ملوانا

سوال

ایک شیعہ رافضی لڑکی سنی لڑکے سے نکاح کرنے پر راضی ہوجائے، اور نکاح کے وقت لڑکے سے کہے کہ میں اپنے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گی، مگر شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی والدین کے گھر جانے کی ضد کرنے لگے، جب کہ اس کے والدین اب تک شیعہ ہوں، ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون کے شیعہ عقیدہ سے توبہ تائب ہونے کے بعد اس سے نکاح کیا ہو تو اس صورت میں مذکورہ نکاح درست ہوگا، بصورتِ  دیگر نکاح درست نہ ہوگا۔ بہرحال  پہلی صورت میں جب کہ نکاح منعقد ہوگیا ہو ، میکے بھیجنے کی صورت میں عقیدہ کے فساد کا قوی اندیشہ ہے، لہذا لڑکی کے والدین کو اپنے ہاں بلواکر یا  کسی اور مقام پر اپنی نگرانی میں ملوا سکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201058
تاریخ24-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں