بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ، زیتون، شہد اور سرکے سے نہانا

سوال

 دودھ، زیتون، شہد  اور سرکے  سے نہانا/ غسل کرنا شرعی حیثیت سے جائز ہے یا نہیں جب کہ پانی غسل خانے سے گٹرلائن میں جاتا ہے؟

جواب

ان  اشیاء  سے  وضو  اور  غسل  کرنا  جائز   نہیں، کرلیا گیا تو بھی فرض وضو اور غسل ادا نہیں ہوگا۔ اور اگر بطورِ علاج یا جلد کی ملائمت کے لیے ان اشیاء سے نہایا جائے تو ان نعمتوں کی ناقدری ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ اشیاء کھانے اور پینے کے لیے پیدا کی ہیں، جلد کے مسائل اور طبی مقاصد کے لیے دیگر ادویات اور علاج موجود ہیں، وہ اختیار کیے جائیں۔

فتح القدير لكمال بن الهمام (1/ 123):
"( ولا) يجوز ( بماء غلب عليه غيره فأخرجه عن طبع الماء كالأشربة والخل وماء الباقلا والمرق وماء الورد وماء الزردج )؛ لأنه لايسمى ماء مطلقاً". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201038
تاریخ23-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں