بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی توسیع کرتے وقت پرانی مسجد کی حدود میں وضو خانہ اور بیت الخلا بنانے کا حکم

سوال

ہمارے گاؤں میں مسجد کو شہید کر کے دوبارہ اس میں توسیع کی گئی،  پہلی مسجد میں جگہ کم تھی۔اس کے پہلے واش روم سڑک کی جگہ پر تعمیر تھے، نئی مسجد میں مسجد کی حدود میں وضو کی جگہ اور واش روم بنا لیا تعمیر کے بعد معلوم ہوا یہ درست نہیں!

جواب

واضح رہے کہ جو جگہ ایک دفعہ  شرعی مسجد کی حدود میں داخل ہوجائے وہ جگہ قیامت تک مسجد کے حکم میں ہی رہتی ہے، اور شرعی مسجد کی حدود میں وضو خانہ یا واش روم (بیت الخلا) بنانا جائز نہیں ہے، اس لیے توسیع کرتے وقت اگر وضو خانہ اور بیت الخلا پرانی مسجد والی حدود کے اندر بنالیا گیا ہے تو یہ ناجائز ہے، اس کو توڑ کر اس جگہ کو نماز کے لیے مختص کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010201007
تاریخ22-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں