بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت گھر کے خرچ سے بچا کر اپنی زکاۃ نکال سکتی ہے یا نہیں؟

سوال

ایک عورت کو اس کاشوہر ماہانہ  15000  روپے گھر ُکےخرچ کے لیے دیتا ہے ، یہ عورت اس خرچے میں سے ہر ماہ کچھ بچاکر اپنے ذاتی زیورات کی زکاۃ ہر سال نکالتی ہے تو کیا اس طرح گھر خرچے میں سے بچاکر اپنے زیورات کی زکاۃ نکال سکتی ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں اگرشوہر کو  اس طرح گھر کے خرچ میں سے رقم بچا کر زکاۃ نکالنے  کی شوہر کی طرف سے اجازت ہو تو عورت کا اس طرح زکاۃ نکالنا جائز ہے،  اگر خاوند کی اجازت نہ ہو تو پھر اس عورت کو اپنی ذاتی رقم سے زکاۃ ادا کرنا لازم ہے، اور ذاتی رقم بھی نہ ہو تو زیورات کو بیچ کر زکاۃ ادا کرے۔ شوہر کی اجازت کے لیے اتنی بات بھی کافی ہے کہ اسے علم ہو اور وہ اس پر اعتراض نہ کرے۔  بیوی کے پاس اگر ذاتی نقد رقم نہیں ہوتی تو شوہر بھی اس کی طرف سے زکاۃ ادا کرسکتا ہے۔  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200980
تاریخ21-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں