بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہا نام کا مطلب

سوال

’’ماہا‘‘  کیسا نام ہے؟  شرعی لحاظ سے رکھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

’’ماہا‘‘ اگر فارسی زبان کا لفظ ہو تو ’’ماہ‘‘  فارسی  میں چاند کو کہتے ہیں ، بظاہر  یہ اسی سے ماخوذ ہے، اس اعتبار سے شرعاً یہ نام رکھنے میں حرج نہیں ۔ 

اگر اسے عربی لفظ سمجھا جائے تو عربی زبان میں اس لفظ کی اصل میں دو احتمال ہوسکتے ہیں:

1- ’’مَأْهًا‘‘ (مہموز الفاء اور ناقصِ یائی)۔   2- ’’مَاهاً‘‘ (لفیفِ مفروق)۔  بہر دو صورت اسے وقف کی حالت میں ’’مَاهَا‘‘ پڑھا جائے۔ پہلی صورت میں  اس کا مادہ ’’أَهْياً‘‘ ہے، بمعنیٰ: قہقہہ لگانا۔ اور دوسری صورت میں اس کا مادہ ہے، ’’وَهْیًا‘‘ بمعنی: ضعف و کم زوری۔  عربی زبان میں دونوں اعتبار سے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200940
تاریخ19-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں