بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ نفاس میں دی گئی طلاق کے بعد عدت کا حکم

سوال

حالتِ نفاس میں دی گئی طلاق کے بعد  عدت کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

نفاس کی حالت میں طلا ق واقع ہو جائے گی اور اس کے بعد تین حیض سے اس کی عدت مکمل ہوگی۔

"والنفاس … کالحیض في کل شيءٍ إلا في سبعة".

قال ابن عابدین: "وصورة العدة إذا قال لامرأته: إذا ولدت فأنت طالق، فولدت، ثم قال: مضت عدتي؛ فإنها تحتاج إلی ثلاث حیض ما خلا النفاس". (الدرالمختار مع ردالمحتار ۱:۲۱۹ باب الحیض قبیل مطلب في حکم وطء المستحاضة) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200939
تاریخ19-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں