عارضی طور پر مانعِ حمل ذرائع اختیار کرنے کا حکم
سوال
کونڈم استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
شریعتِ مطہرہ کی رو سے کثرتِ اولاد پسندیدہ ہے، بلا کسی عذر کے کوئی مانعِ حمل طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو بیوی کی اجازت سے عارضی مانعِ حمل کے طور پر کونڈم کا استعمال کرنا جائز ہے، شرعی عذر سے مراد یہ ہے کہ مثلاً بیوی کی صحت ولادت کی متحمل نہ ہو، یا پہلے سے کوئی دودھ پینے والا بچہ ہو اور حاملہ ہونے کی وجہ سے دودھ خراب ہونے اور دودھ پینے والے بچے کی صحت پر اثر پڑنے کا اندیشہ ہو، یا اولاد کی اچھی تربیت کے لیے مناسب وقفہ کرنا مقصود ہو۔ لیکن اگر یہ نیت ہو کہ دوسرا بچہ پیدا ہوگا تو اس کے خرچ اور کھانے کا انتظام کہاں سے ہوگا ؟ تو اس نیت سے کونڈم سمیت کوئی بھی مانعِ حمل طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

